21 اپریل 2026 - 16:48
فاتحِ مقتول؛ خون اور نصرت کا معمہ

حق ناقابل شکست ہے، خواہ اس کے پیروکار اپنے خون میں تڑپ جائیں۔ اللہ کی نصرت نور اور روشنی کی بقاء کی ضمانت ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چراغ بھی محفوظ رہے۔ حق کا راستہ زخموں کے بیچ سے گذرتا ہے، لیکن کبھی بھی تعطل سے دوچار نہیں ہوتا، یہ فتح کے گہرے معنی ہیں؛ قرآن کریم کی منطق میں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اللہ کی نصرت جسمی صحت کا بیمہ نہیں بلکہ ایک راہ اور ایک مشن کی بقاء کا ضمانت نامہ ہے کہ یہاں تک کے انبیاء کی شہادت سے بھی مکتب کی فتح جنم لیتی ہے۔

اللہ کی نصرت ایک قرارداد نہیں جو ہمارے جسم کو کسی ضرب سے محفوظ رکھتی ہو، اللہ نے کسی سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ راہ حقم میں کسی کو جسمانی نقصان نہیں پہنچے گا اور کوئی شہید یا زخمی نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نصرت راہ حق پر گامزن کسی دھارے، کسی فکر اور کسی مکتب کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور تعطل توڑنے کے لئے آتی ہے، لیکن یہ تمام افراد کا لائف انشورنس ہرگز نہیں ہے۔ یہ اللہ کی طرف کی حمایت کے صحیح ادراک کی طرف پہلا قدم ہے۔

فاتحِ مقتول؛ خون اور نصرت کا معمہ

قرآن صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ حق کا محاذ بالآخر فاتح و کامیاب ہے فرمایا:

"كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي۔۔۔؛ [1]

اس آیت نے انجام کو عیاں کر دیا ہے۔ اللہ نے لکھ دیا ہے، اللہ نے دستخط کئے ہیں کہ وہ خود اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر غالب و فاتح ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخری فتح محاذ حق کی ہے؛ یہ کائناتی ترتیب کا اٹل قانون ہے۔

لیکن سوال پیش آتا ہے کہ اگر فتح حتمی ہے تو انبیاء کیوں قتل ہوئے۔ قرآن کریم "وَيَقْتُلُونَ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ" [2] جیسی آیات میں اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ باطل کا محاذ انبیاء کے جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہاں تضاد کا شکار نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ فتح کی سطحیں مختلف ہیں۔

نصرت کی دو قسمیں ہیں جنہیں ایک دوسرے سے گڈ مڈ نہیں کرنا چاہئے۔ ایک نصرت ذاتی اور جسمانی ہے جس کی کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن اصل نصرت انبیاء کے مکتب و رسالت کے لئے ہے۔ ممکن ہے کہ ایک پیغمبر شہید ہوجائے لیکن اس کی فکر، اس ا راستہ اور اس کا مشن تاریخ میں فاتح و غالب آ جائے۔

چنانچہ جب ارشاد ہوتا ہے کہ "وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمْ الغَالِبُونَ" [3]  تو اس کا مطلب باطل پر حق کی حتمی فتح ہے۔ مجاہد اس راستے پر "إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ" [4] پر فائز ہوتا ہے، یعنی فاتح و کامیاب ہوجاتا ہے یا اپنی شہادت سے تعطل کا خاتمہ کرتا ہے اور راستہ کھول دیتا ہے۔ اور دونوں صورتوں میں اس کے لئے عظیم تاریخی نصرت مضمر ہے۔

حق ناقابل شکست ہے، خواہ اس کے پیروکار اپنے خون میں تڑپ جائیں۔ اللہ کی نصرت نور اور روشنی کی بقاء کی ضمانت ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چراغ بھی محفوظ رہے۔ حق کا راستہ زخموں کے بیچ سے گذرتا ہے، لیکن کبھی بھی تعطل سے دوچار نہیں ہوتا، یہ فتح کے گہرے معنی ہیں؛ قرآن کریم کی منطق میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تحریر میں آیت اللہ جوادی آملی کے تفسیری مضامین سے اخذ کیا گیا۔

تحریر: علی لاری زادہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں اورمیرے پیغمبر غالب آئیں گے۔۔۔ (سورہ مجادلہ، آیت 21۔)

[2]۔ (اور پیغمبروں کو نا حق قتل کرتے رہے)" (سورہ آل عمران، آیت 112۔)

[3]۔ اور بلاشبہ ہماری ہی فوج وہ ہے جو غالب آئے گی۔ (سورہ صافات، آیت 173۔)

[4]۔ "قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ اللّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ؛ کہہ دیجئے کہ تم ہمارے لئے دو بھلائیوں میں سے ایک کے سوا اور کاہے کا انتظار کر سکتے ہو ؟ اور ہمیں تمہارے لئے، اس کی توقع و انتظار ہے کہ اللہ تمہیں سزا دے، خواہ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے تو تم انتظار کرو، یقین سمجھو کہ ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔" (سورہ توبہ، آیت 52۔)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha